لاہور(ویب ڈیسک)مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی 88 ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ قوم ہونے کا شعور دیا، انکی فکری رہنمائی نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو ایک مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی، مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علامہ اقبالؒ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ماسٹرزکیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے جہاں قانون کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ نے اورینٹیئل کالج میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیئے تاہم وکالت کو مستقل پیشے کے طور پر اپنایا، علامہ اقبالؒ وکالت کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیا، 1922 میں حکومت کی طرف سے آپ کو ’سر‘ کا خطاب ملا۔
مفکر پاکستان کا شمار برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ساز شخصیات میں ہوتا ہے، علامہ اقبالؒ نے ناصرف تصور پاکستان پیش کیا بلکہ اپنی شاعری سے مسلمانوں، نوجوانوں اور سماج کو آفاقی پیغام پہنچایا۔ علامہ اقبالؒ کے معروف مجموعہ کلام میں بانگ درا، ضرب کلیم، ارمغان حجاز اور بال جبریل شامل ہیں۔ علامہ اقبال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے، جہاں ان کا مزار بادشاہی مسجد کے قریب واقع ہے۔
اقبال نے امت کو خودی اور عمل کا پیغام دیا، صدر مملکت
صدر مملکت نے علامہ اقبال کی برسی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ اقبال نے امت کو خودی اور عمل کا پیغام دیا، اقبال کی فکر مشرق و مغرب کے علمی امتزاج کی عکاس ہے، سماجی و معاشی انصاف اقبال کے پیغام کا بنیادی حصہ ہے، فکر اقبال آج بھی امید اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے اقبال کا پیغام حوصلہ اور جدوجہد ہے، اقبال کے نزدیک تعلیم کردار سازی کا ذریعہ ہے، اقبال کا تصورِ خودی اعتماد اور شعور کی بنیاد ہے، اقبال کی فکر کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
































