پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جانب سے رضوان آفتاب احمد کے اعزاز میں تقریب، خصوصی شیلڈ سے نوازا گیا

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جانب سے رضوان آفتاب احمد کے اعزاز میں تقریب، خصوصی شیلڈ سے نوازا گیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن  نے ملک میں کھلاڑیوں کی ترقی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے پر رضوان آفتاب احمد کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔

رضوان آفتاب احمد گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی ایتھلیٹس کے سرگرم معاون کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو جلا بخشنے کے لیے مالی، طبی اور غذائی امداد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی بھرپور معاونت ہے، جنہیں انہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ انگلینڈ میں تربیت اور طبی علاج کے دوران بھی مکمل تعاون فراہم کیا۔  اپنی گفتگو میں انہوں نے اپنے خاندان کی عوامی خدمات کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جذبہ حب الوطنی ان کے اسلاف کی مرہونِ منت ہے۔ ان کے پرنانا راجہ غضنفر علی خان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور پاکستان کے وزیر خوراک، زراعت و صحت رہ چکے ہیں، جبکہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔رضوان کے دادا افتخار احمد شاہ نے 1948 کے لندن اولمپکس میں تیراکی کے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، جبکہ ان کے والد پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد پاکستان میں آرتھوپیڈک سرجری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ارشد ندیم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے رضوان احمد نے عاجزی سے کہا کہ ان کا کردار نہایت معمولی رہا ہے، اصل کامیابی ارشد کی محنت، والدین کی دعاؤں اور ان کے کوچ سلمان بٹ کی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنے کزن ڈاکٹر علی باجوہ کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا، جنہوں نے اولمپک گولڈ میڈل جیتنے سے قبل ارشد ندیم کی انجری سے نجات اور بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔  رضوان آفتاب احمد نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو یقین دلایا کہ وہ کھلاڑیوں کو طبی سہولیات، خوراک اور مالی امداد کی فراہمی جاری رکھیں گے۔ بطور سی ای او ACTIVIT اور ڈائریکٹر نیشنل ہسپتال ڈی ایچ اے لاہور، انہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کی تمام طبی سہولیات پی او اے اور اس کے کھلاڑیوں کے لیے ہمہ وقت دستیاب رہیں گی۔ "میری خواہش ہے کہ پاکستانی ایتھلیٹس اولمپک گیمز میں عظیم کامیابیاں حاصل کریں۔ ملک کے ہیروز کی خدمت کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا میرے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہے گا۔”

Exit mobile version