ایڈنبرا(سچ نیوز) دسمبر 1988ءمیں سکاٹ لینڈ میں ایک مسافر طیارے پر بم حملہ کیا گیا جو شہر لاکربی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار 270مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ اب تک اس واردات کا ذمہ دار لیبیا کے سابق سربراہ کرنل قذافی کو سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اب یہ واردات کرنے والے دہشت گرد کی بیٹی نے اسے جھوٹ قرار دیتے ہوئے ہوشرباانکشاف کر دیا ہے۔ دی سن کے مطابق اردنی شہری مروان خریسط وہ شخص تھا جس نے دہشت گردی کی یہ واردات کی۔ اب اس کی ’ساہا‘ نامی بیٹی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے لیبیا کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ ایران نے ایک فلسطینی شدت پسند گروپ کو پیسے دیئے تھے اوران کے ذریعے یہ واردات کروائی تھی۔اس سانحے کے بعد لیبیا کے انٹیلی جنس آفیسر عبدالباسط المگراہی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے پیچھے کرنل قذافی کا ہاتھ تھا۔ برطانیہ نے کرنل قذافی سے عبدالباسط کی حوالگی کا مطالبہ کیا جس پر اسے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا اور اسے 2001ءمیں قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا۔ 43سالہ ساہا نے بتایا ہے کہ ”میرے والدین نے کچھ دستاویزات میری والدہ کو دی تھیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی اس ساری واردات کی نگرانی ایک فلسطینی شدت پسند گروہ کا سربراہ احمد جبریل کر رہا تھا اور وہی اس کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اسے ایران نے اس کام کے عوض رقم دی تھی۔میری ماں نے حکام کو بمبار کا نام تک بتا دیا تھا۔ “ واضح رہے کہ چند لوگوں کا ماننا تھا کہ اس سانحے سے کچھ عرصہ قبل امریکہ نے ایک ایرانی مسافر طیارہ مار گرایا تھا اور اس میں سوار 290مسافر جاں بحق ہو گئے تھے۔ چنانچہ ایران نے انتقاماً یہ واردات کی۔ تاہم اکثریت کا موقف اس کے برعکس تھا۔ اب ساہا کے انکشافات سے ان لوگوں کے موقف کو تقویت مل گئی ہے۔


























