اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی مرتضیٰ حسین نے ’ڈراپ سائٹ‘ پر شائع اپنے مضمون میں دعویٰ کیاہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے پاکستان کے غیر جانبدار کردار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اعلان کیا کہ پاکستان کی فوجی نفری اور جنگی طیارے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گئے ہیں۔ بیان کے مطابق یہ تعیناتی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آپریشنل تیاری کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
یہ اقدام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت کیا گیا، جسے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران فعال کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی تفصیلات نہ تو عوام کے سامنے لائی گئیں اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات ہفتے کے روز ناکام ہو گئے، جس کے بعد امریکی وفد بغیر کسی معاہدے کے واپس روانہ ہو گیا۔ تاہم پاکستان اب بھی سفارتی کوششوں میں شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا تھا۔
ڈراپ سائٹ کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ طور پر جنگ میں شامل ہونے کا پابند ہو سکتا ہے۔
اس معاہدے کی جڑیں 1982 کے خفیہ معاہدے اور 2005 کے ملٹری کوآپریشن ایگریمنٹ (MCA) میں ملتی ہیں، تاہم 2021 میں اس میں اہم ترمیم کے ذریعے پاکستان کو سعودی عرب کے دفاع میں براہِ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا۔2025 میں ہونے والے نئے اسٹریٹجک معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا، تاہم اس کی عملی حدود واضح نہیں ہیں۔
پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے مالی مدد پر انحصار کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کی ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اس جنگ میں شامل ہوتا ہے تو یہ ایک بڑا سیاسی اور اسٹریٹجک خطرہ ہوگا۔ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی سے نہ صرف عوامی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے علاقائی سطح پر تنہائی اور سکیورٹی مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔پاکستان کی ایک بڑی شیعہ آبادی بھی اس معاملے کو حساس بناتی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بدستور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

































