(سچ نیوز) وزیر اعظم پاکستان عمران خان گزشتہ روز شورکوٹ کینٹ رفیقی ایئر بیس پر اپنے طیارے سے اترے اور ضلع جھنگ کی سرزمین پر پاؤں رکھنے کے بعد لیہ روانہ ہوگئے خیر سے ہمارے جھنگ کے سیاستدانوں کو اللہ ہدایت دے کہ انہیں پتہ بھی تھا کہ انہوں نے آناہے تو ہم انکو اپنے ضلع کی بھی دعوت دے دیں کہ 1849میں جو ضلع بنا تھا وہ کن کن مسائل کا شکار ہے اور کون کون سی سہولیات کی اشد ضرورت ہے اور نہیں تو انکو صاحبزادگان شورکوٹ کینٹ سے براستہ شورکوٹ تحصیل چوک سے جھنگ روڑ سڈھے والی پل تک ہی لے آتے امید ہے واپس وہ کسی ایمرجنسی میں ضرور جاتے کیونکہ جھنگ ملتان روڑ ہے ہی اتنا خوبصورت جو کار میں آئے تو دوسرے دن اخبار میں ضرور آتاہے مگر کیاکہیں جھنگ کے موجودہ حکومتی عہدیداروں کو وہ ایک دوسرے کو گندہ کہنے اور ٹانگیں کھینچنے یا کسی اچھے کام کرنے والے افسر کے تبادلے میں لگے رہتے ہیں ہمارے جھنگ کے وہ سیاستدان ہیں وہ نہ تو خود کچھ کرنا چاہتے ہیں اور ناہی کسی باہر سے وزیر کو یہاں آنے دیتے ہیں کہ توں کی کرناں اتھے آکے چھڈ پراں کتھے ہورجا جھنگ کی بھولی عوام انسے بہت سی امیدیں لگائی بیٹھی ہے مگر کھنڈرات کا منظر پیش کرنے والا ضلع جھنگ جسکے ذمہ دار یہ سیاستدان ہی ہیں اور جھنگ کی عوام انکے دھوکے میں ہربار آجاتی ہے مگر افسوس کہ ہم خود کو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم جھنگ سے ہیں جھنگ کی دھرتی پنجاب کا دل ہے مگر جھنگ کے سیاستدانوں نے پنجاب کے دل کے والو بند کردیے ہیں اور یہ دل اب اٹیک ہی کرےگا جوکہ جھنگ کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہ ڈویڏن کی بجائے تحصیل بنےگا