
خاکِ صحرائے جنوں میں نقشِ پا ملتا نہیں
کوچۂ دلدار کا ہم کو پتا ملتا نہیں
ہم نے منزل اپنے قدموں پر جھکا دی اس طرح
لوٹ جانے کا اب اس کو راستہ ملتا نہیں
لاکھ کوشش کر مگر بے سود ہیں سب کوششیں
دل سے دل اِک بار ہوجائے جدا ، ملتا نہیں
آج منظر میں نے سمجھا ہے جنونِ عشق کو
زندگی گر وار دیں پھر بھی صلہ ملتا نہیں