تحریر: ڈاکٹر زاہرہ افتخار
عنوان: امپورٹڈ انسان نامنظور
سوشل میڈیا کھولا تو ہر طرف امپورٹڈ حکومت کی باتیں تھی۔ ہر شخص کا اپنا نظریہ تھا جسےوہ جوشو خروش سے سوشل میڈیا پہ گا رہا تھا۔ اور جسے کسی کے نظریے سے اختلاف تھا تو وہ جذباتی ہوجاتا دوسرے کو برا سمجھتا اور اس اختلافی جذبات میں اس قدر آگے نکل جاتا کہ بات لڑاٸ جھگڑے پہ جا پہنچتی۔ کسی بھی شخص کا نظریے اس کی آزادی ہوتا ہے۔ ہم آزاد قوم ہے لہذا ہماری سوچ بھی آزاد ہوگی اور ہمارے نظریے بھی۔ ہم غلام قوم نہیں کہ کسی کے نظریے پر سوچے سمجھے بغیر جی حضوری کریں۔ ہر شخص کو اپنے نظریے میں آزادی حاصل ہے۔ کوٸ دوسرا شخص کسی دوسرے کو اپنے نظریے میں قید نہیں کرسکتا اور مختلف نظریات کی بناء پر مسلمانوں کا ایک دوسرے سے دشمنی رکھنا جاٸز نہیں بلکہ ایک جہالت ہے۔ لہذا کسی کا نظریہ سہی ہو یا غلط یے نظریہ اُس کی آزادی ہے۔ آپ اپنی راۓ پیش کرسکتے ہیں پر کسی پر مسلط نہیں کرسکتے اور نا ہی اس بات کو لے کر دشمنی رکھ سکتے ہیں۔
میرا زہن انہی خیالوں میں تھا کہ اچانک ایک خیال آیا کہ آج کا انسان بھی امپورٹڈ ہے۔ ”ہم ہم نہیں رہے“۔
آج ہماری زندگی کے بہت سے طرزِعمل امپورٹڈ ہیں۔ غیر مسلم ممالک کے بہت سے طور طریقہ ہم نے اپنی زندگیوں میں امپورٹ کر رکھیں ہیں۔ ہم نےپاکستان کو اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے اور اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے غرض سے حاصل کیا تھا لیکن آج ہماری زندگی کے معیار غیر مسلم ممالک سے امپورٹڈ ہیں۔ ہماری زندگی گزارنے کے معیار وہ نہیں جو اسلام نے ہمیں بتاۓ۔ تعلیم رہن سہن شادی بیاہ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے سے لے کر ہماری سوچ بھی بدل گٸ ہے۔ اب ہماری سوچ بھی امپورٹڈ ہے اور جب سوچ بدل جاۓ تو اعمال لاشعوری طور پر بدل جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج کا مسلمان اس امپورٹڈ زندگی کو اختیار کرکہ فخر محسوس کرتا ہے اور خود کو موڈرن کہلاتا ہے۔ جب کہ اسلام کے سہل اور سنہرے اصولوں پر چلنے سے کتراتا ہے اور ایسا کرنے پر خود کو دقیانوس سمجھتا ہے۔ مسلمانوں کو خود کو بدلنا ہوگا اپنی امپورٹڈ سوچ اور طرزعمل کو بدلنا ہوگا۔ اسلام کی بتاٸ گٸ زندگی گزارنے میں ہی ہماری فلاح ہے۔
مجھے آج کا امپورٹڈ انسان نامنظور ہے کیونکہ یے وہی والی بات ہے کہ: ”کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا“ ۔