لاوارث کراچی
رپورٹ ۔۔۔۔سینئر جرنلسٹ
بشریٰ جبیں کالم نگار تجزیہ کار
کراچی میں یوں تو امن و امان کا مسلہ گزشتہ کٸ دہاٸیوں سے چل رہا ہے کراٸم ریشو کا گراف کبھی اچانک بڑھ جاتا ہے اور نسبتاً کبھی کچھ کم ہو جاتا ہے۔
شہر میں قانون نافز کرنے والے اداروں کی کوششوں سے گزشتہ سالوں میں اغوا براۓ تاوان۔بھتہ خوری۔ٹارگٹ کلنگ میں کچھ کمی أٸ تھی لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے ایسا نظر أرہا ہے کہ مجرم جرم کرنے کے لۓ مادر پدر أزاد ہوگۓ ہیں انھیں کسی ادارے کسی قانون کا کوٸ خوف نہیں اور سارے شہر میں مجرم اسلحہ اٹھاۓ دندناتے پھر رہے ہیں۔شہر کا کوٸ علاقہ ان کی دسترس سے محفوظ نہیں۔عوام اور خاص طور پر تاجر ان کے نشانے پر ہیں۔ڈاکو بینکوں سے رقم نکلوانے والوں کے پیچھے بینکوں سے لگ کر أتے ہیں اور باقاٸدہ اسلحہ کے زور پر اس رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کا شکار ہونے والا بینک سے لے کر نکلا ہے۔اسٹریٹ کرمنلز دن دھاڑے خواتین کے زیور نوچ رہے ہیں فون پرس قیمتی اشیا رقم موٹر ساٸکل کار چھین رہے ہیں شہر میں جنگل کا قانون نافذ ہے اور شہر کراچی مجرموں کی جنت بنا ہوا ہے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے مجرموں کے سامنے قطعی بے بس نظر أتے ہیں قوم کے اربوں روپے ان سیکیورٹی اداروں پر خرچ ہورہے ہیں لیکن ان کی کارکردگی جراٸم کے مقابلے میں صفر ہے۔پولیس بڑے بڑے دعوے کرتی نظر أتی ہے لیکن شہریوں کو تحفظ دینے میں قطعی ناکام ہے پولیس فورس کے اندر مجرم چھپے ہوۓ ہیں اس کے علاوہ سیاسی بھرتیوں اور سیاسی مداخلت نے پولیس کا ادارہ تباہ کردیا ہے۔
پولیس کا أپریشن کا شعبہ ہو یا تفتیش کا اس میں تربیت اور صلاحیت کی کمی بھی ہے اور کام سے زیادہ مال بنانے کی جستجو بھی جسے پولیس نے نصب العین بنالیا ہے کیونکہ جزا و سزا کا کوٸ تصور ہی نہیں۔بڑے افسران کی نا اہلی اور کوتاہی کی سزا کسی جونیرکو معطل کرکے پبلک کی أنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے اور معطلی بھی کوٸ ایسی سنگین سزا نہیں معطل اہلکار پیسہ دے کر پھر بحال ہوجاتا ہے۔ ابھہ گزشتہ دنوں ڈکیتی کے دوران قتل کرنے کا مجرم پولیس اہلکار نکلا اور چشم کشا حقیقت سامنے أٸ کہ وہ عادی مجرم تھا اور اس کے خلاف پہلے ہی کٸ کیس رجسٹر تھے اور وہ پھر بھی ڈیوٹی کر رہا تھا اس کے بعد اس کی پر اسرار موت جسے خودکشی قرار دے دیا گیا اور کیس بند ہونا کٸ پردہ نشینوں کو بچا گیا۔
پولیس اپنی فورس میں شامل افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کرے اور فورس سے فارغ کرے۔
اب تو ناکے لگا کر ڈاکو کٸ سو شہریوں کو لوٹ لیتے ہیں اور پولیس سوتی رہتی ہے لوگوں کی جان مال عزت کچھ محفوظ نہیں اور اس پر نوحہ یہ کہ شہر میں کوٸ وزیر داخلہ نہیں ہمارے ہر فن مولا وزیر اعلیٰ نے یہ قلمدان بھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے کیونکہ ان سے زیادہ قابل أدمی اس شہر میں کوٸ نہیں۔
ظلعی پولیس ہو یا ٹریفک پولیس ان کا مقصد شہریوں کو تحفظ دینے کے بجاۓ شہریوں کو تنگ کرنا اور لوٹ مار کرنا ہے شہر میں موجود أٸ جی۔ایڈیشنل أٸ جیز۔ڈی أٸ جیز۔ایس ایس پیز ۔ایس پیز۔ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز پر ان حالات میں یہ لازم ہے کہ وہ ایرکنڈیشن کمروں سے اپنے علاقوں میں باہر نکلیں موجودہ وساٸل کا بہتر استمال کریں۔کھلی کچہریاں لگاٸیں عوام کے مساٸل سنیں انھیں حل کریں۔پٹرولنگ بڑھاٸیں۔ انٹیلیجنس نیٹ ورک فعال کریں جدید ٹیکنالوجی کا استمال کریں کاروباری علاقوں میں تاجروں کے ساتھ رہاٸشی علاقوں میں رہاٸشیوں کے ساتھ کمیونٹی پولیسنگ نیٹ ورک مضبوط بناٸیں اور جراٸم کے کنٹرول ہونے تک چین سے نہ بیٹھنے کی قسم کھاٸیں جو ان کا فرض بھی ہے۔
اعلیٰ افسران ذاتی پسند نہ پسند کے بجاۓ اچھے افسران کا تقرر کریں اور کاکردگی نہ دکھانے والوں کو فارغ کریں۔
وزیر اعلیٰ سندھ فوری کسی قابل وزیر داخلہ کا تقرر کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام وساٸل فراہم کرکے سیاسی مداخلت بند کرواٸیں۔
ٹیکس ادا کرنے والے اچھے کردار کے حامل تاجروں اور شہریوں کو اسلحہ کے لاٸسنس جاری کریں تاکہ وہ اپنا تحفظ کرسکیں۔
مرکزی حکومت بھی امن و امان پر سیاست کے بجاۓ مجرموں کو کچلنے کے لۓ ہر ممکن اقدام۔انٹیلیجنس شیرنگ اور قانون سازی کرے۔