میرا کراچی ایک بار پھر لاوارث
// رپورٹ بشریٰ جبیں کالم نگار تجزیہ کار
روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی آج خوف کی لپیٹ میں آگیا ایک طرف کراچی میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں تو دوسری طرف ہوشربا مہنگائی۔کراچی کے عوام اس دوہری اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔کراچی کا علاقہ اورنگی ٹاون جہاں ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی واقع ہے اور جس میں پچاس لاکھ سے زائد مختلف زبان کے لوگ رہائش پذیر ہیں جس میں سے پچھتر فیصد روزمرہ دیہاڑی دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں انہیں ووٹ لیتے وقت ہمیشہ اس بات کا یقین دلایا جاتا ہے کے آپکی تمام مشکلات ہم اقتدار میں آتے ہی جلد ختم کریں گے اس روایت کے سلسلہ کو برقرار رکھتے ہوئے یہ نعرہ خان صاحب نے بھی لگایا تھا پر خان صاحب کراچی کے شہری آج غیر محفوظ ہوگئے ہیں گھر سے باہر جانا تو دیگر بات ہے گھروں کی دہلیز پر اس شہر کے باسیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ اس شہر کے لوگ اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے بڑی محنت و مشقت کرتے ہیں جس کے بعد انہیں روٹی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اس دوہری مصیبت نے انہیں خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
اس مجبور عوام کا اپنے وزیر اعظم سے سوال ہے۔کہ کیا یہ وہ ریاست مدینہ ہے جسکا انہیں خواب دکھا کر ان کے قیمتی ووٹ حاصل کیے گئے تھے۔ اس شہر میں دن دہاڑے ملزمان کاروائی کرجاتے ہیں اور ذرا سی مزاحمت کرنے پر انہیں جان سے مارنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔
آج میرا کراچی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے خدارا کراچی کے عوام کے ساتھ اس طرح کی سیاست نہ کھیلی جائے کراچی کے عوام کو اسٹریٹ کرمنل اور مہنگائی کے لقمہ بننے سے بچایا جائے ۔۔۔ عوام کی براشت اب جواب دیتی جارہی ہے۔ پولیس پر سے شہریوں کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ اب اس شہر کے لوگوں کا ایک. ہی مطالبہ ہے کہ حکومت مہنگائی کو کم کرے اور کراچی کو فوری طور پر رینجرز کے حوالے کیا جائے، سندھ پولیس کراچی میں جرائم کی وارداتوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

































