- تحریر: سعدیہ اکیر
اعنوان: میاں صاحب کی واپسی
اس وقت اس ملک کی ساری سیاست اور سارے میڈیا پر ایک ہی بات کے گرد گھوم رہی ہیں کہ میاں صاحب کی واپسی نون لیگ کا بیانیہ یا پھر سب کچھ وہی سے شروع کیا جائے گا جہاں پر ختم ہوا تھا
ن لیگ اس ایسے دیکھا رہی ہیں کہ جیسے میاں صاحب اس ملک کی بہتری اور ترقی جیب میں لے کر آ رہےہیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ملک میں تشریف لائے گئے اس ملک میں ہر طرف خوشحالی آ جائے گی
مریم نواز نے تو انہیں اس ملک کے عوام کی لیے روشنی اور سکون کا باعث کہے دیا ہے شکر ہے یہ نہیں کہا کہ اس ملک میں آکسیجن بھی نوازا شریف صاحب کے وجہ ہیں یہ سب ایسے ظاہر کررہی ہے جیسے میاں صاحب جہاز سے اترے گے انہیں وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا دیا جائے گا جبکہ کہ نگران وزیر داخلہ کے بیان پر ن لیگ نے ایسے شور واویلا کیا سابق وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا دیا کہ یہ کرسی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے یہ سب انہیں اپنے دور میں کیوں یاد نہیں رہا جب وہ خود ایسے بیانات دیتے تھے انہیں شاہد یہ ہی لگتا تھا وہ ہمیشہ کے لیے اس کرسی پر بیٹھ گئے ہیں
اگر میاں صاحب گرفتار ہوتے ہیں تو اس میں کیا ہے یہ پی ڈی ایم کی حکومت نے سولہ ماہ کوئی اور کام کیا یا نہیں لیکن قانون اور آئین کی پاسداری کی بڑی بڑی باتیں کی ہیں اس پر اب خود بھی عمل کرنے کا وقت آیا ہے تو یوں نا گھبرائے یا پھر قانون صرف غریب اور مخالفین کے لیے ہوتا ہے
اگر میاں صاحب کو قانون اور آئین اور ہر چیز سے بری الزمہ قرار دے کر الیکشن جیتوا کر وزیر اعظم کی کرسی مل جاتی ہے پھر اس ملک میں آئین اور قانون مذاق ہے طاقت ور کے لیے
جس طرح یہ سب اس ملک کی بہتری کے دعویدار ہے اس کے لیے ان کے پاس کوئی پالیسی یا پلان ہے یا نہیں اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے کیا یہ سب اسی تیاری سے آئے گے جس طرح پہلے حکومت میں آئے ہیں کہ عوام جو بہتری کے لیے پر امید تھی وہ عوام اب بدترین حالات میں ہیں جہاں روٹی ، گھر کا کرایہ، پٹرول، سکولوں کی فیسیں کے ساتھ اب بجلی کا بھی عوام کے لیے ایک ڈراؤنا بن گیا ہے یہ ملک جو بدحالی اور مسئلے کی دلدل میں پھنس گیا میاں صاحب اس سب سے اس ملک کو نکال لے گے یا وہ بھی سب سے پہلے انتقام لے گے رانا ثنااللہ کے مطابق ان لوگوں سے حساب لیا جائے گا جہنوں نے میاں صاحب کے ساتھ برا کیا
سوال یہ ہے کہ عوام اپنا انتقام کس سے لے؟ کیونکہ ان سب کے حالات کچھ عرصہ بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں ان کی مرضی کے مطابق سب کچھ مل بھی جاتا ہے لیکن عوام کی امیدوں پر کبھی کوئی بھی پورا نہیں اترتا۔
جب تک ہم عوام کو یہ اختیار نہیں دیے گئے کہ وہ اپنی مرضی سے انتخاب کریں اور پھر اس بات کو یقینی نہیں بناتے کہ سیاست دانوں کو پتا ہو کہ انہیں پانچ سال بعد عوام کو جواب دینا ہے اور سیاستدانوں کو اس بات کا یقین ہو کہ عوام ان کے سر سے آسمان اور پاؤں سے زمین تو نہیں کھینچ سکتی لیکن وہ جب چاہیں ان کے نیچے سے کرسی کھینچ سکتے ہیں اس دن یہ ایک دوسرے کو الزام دینا کی بجائے خود کام کریں گے اور اس عوام میں بھی ایک احساس پیدا ہو گا کہ وہ اپنا نمائندہ خود چن سکتے ہیں اور اپنی تقریر بدل سکتے ہیں۔
اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔