واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کو ’معاشی جوہری ہتھیار کے مترادف‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اسے دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کو انٹرویو میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ایران فخر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ دنیا کی 20 سے 25 فیصد توانائی کو یرغمال بنا کر رکھ سکتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ تصور کریں اگر ایران کو جوہری ہتھیار تک رسائی مل گئی ’تو وہ پورے خطے کو یرغمال بنا لے گا۔‘
مارکو روبیو نے کہا کہ انھیں امید ہے اس تنازع کے بعد پوری دنیا کو ایران سے لاحق خطرے کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ ان کے مطابق ایران دنیا کے ساتھ جو کچھ جوہری ہتھیار کے ذریعے کرنا چاہتا ہے، وہی وہ اس وقت تیل کے ذریعے کر رہا ہے۔
انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران اس صورتحال سے نکلنے کے بارے میں سنجیدہ ہے جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے آغاز سے پہلے ایران کو جن مسائل کا سامنا تھا وہ اب بھی موجود ہیں یا مزید بڑھ چکے ہیں، تاہم اب اس کے پاس پہلے کے مقابلے میں آدھے میزائل رہ گئے ہیں، کوئی فیکٹری باقی نہیں رہی اور اس کی بحریہ بھی ختم ہو چکی ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی حکومت میں تمام عناصر سخت گیر ہیں، لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ایک ملک اور معیشت چلانی ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق ایرانی نظام میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی فیصلے کے پیچھے اس کے فائدے اور نقصان کا اندازہ لگاتے ہیں ’اور ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ جو بھی شر انگیزیاں وہ کر رہے ہیں، ان کا نقصان فائدے سے زیادہ ہو۔‘
مارکو روبیو نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی خواہش ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی نہیں ہے۔ اس سال کے آغاز پر ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں اور حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہماری خواہش تھی کہ 30 سے 40 ہزار افراد کو سڑکوں پر قتل کرنے کے بجائے ایرانی عوام کی آواز سنی جاتی۔‘