اسلام میں خواتین کے حقوق وفرائض
*تحریر بشریٰ جبیں جرنلسٹ تجزیہ نگار*
اگرعورت اچھی ہے تو ریاست بھی اچھی ہو گی۔ اگر وہ خراب ہے تور یاست بھی خراب ہوگی۔جس طرح ستون کو دیکھ کر کسی عمارت کی مضبوطی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح معاشرہ میں عورت کی حیثیت کو دیکھ کر قوم کی عظمت اور سربلندی کا اندازہ باآسانی کیا جا سکتا ہے ۔ معاشرہ کا یہ ستون اگر مضبوط ہے تو اس پر قوم کے امن وعافیت کی چھت ڈالی جاسکتی ہے۔
اس وقت یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اگرعورت کا معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں اتنا اہم رول ہے تواس کو وہ اہمیت کیوں نہیں دی جاتی جس اہمیت کی وہ مستحق ہے۔ اگر عورت ہی معاشرے کی بنیاد ہے تواس بنیاد کو مضبوط کرنے پر تو جہ کیوں نہیں دی جاتی۔ ظہورِ اسلام سے پہلے عورت کی زبوں حالی سے ہر ایک واقف ہے کہ اس کی حیثیت پیر کی جوتی کے برابر بھی نہیں تھی۔ پھرایک روشن زمانہ آیا۔ اسلام نے کہا کہ’ ’عورت ‘‘کو خرید و فروخت کا سامان مت بنائواور موت کے بعد اسے اس طرح مت تقسیم کرو جس طرح تم وراثت کی دیگر چیز یں تقسیم کرتے ہو۔ اگر یہ ماں ہے تو اس کے قدموں تلے اپنی جنت تلاش کرو،اگر یہ بیٹی ہے تو اس کی بہتر ین پر ورش کے عوض تمہیں جنت کی بشارت دی جاتی ہے۔ اگر یہ بہن ہے تو اس کے باعث تم صدقہ وجہاد کے ثواب کو حاصل کر وگے اور اگر یہ بیوی ہے تو یہ تمہار الباس ہے،تمہیں ڈھانپ لینے والی اور تمہاری تمام ترکجیوں پر پردہ ڈال کرتم سے محبت کر نے والی۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کا ایک نقشہ دیتا ہے۔اپنے ماننے والوں کے حقوق بھی وہ صاف صاف بتاتا ہے اور فرائض بھی۔ قرآن مجید جس طرح مردوں کو مخاطب کرتا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہدایات دیتا اور ان سے مطالبات کرتا ہے۔ اسلام کی رو سے دین کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اِنسانی مرتبے میں عورت اور مرد برابر ہیں۔ جسمانی اعتبار سے اور دائرہ کار کے لحاظ سے اگرچہ دونوں میں فرق ہے مگر بحیثیت انسان دونوں برابر ہیں۔
اسلام نے مرد اور خواتین کوباہم ایک دوسرے کے ولی اور نیکی کے کاموں میں معاون قرار دیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور معاون ہیں،اچھے کام کی تلقین کرتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ،زکوٰۃ دیتے ہیں ، اللہ اور اسکے پیغمبر() کی اطاعت کرتے ہیں ،جن پر اللہ رحم فرمائے گا،بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

































